انٹر نیٹ کی رسائی بچوں کی تعلیم میں اہم رکاوٹ،حالیہ بیان کی گئی تحقیق،اس محرومی سے نجات

Post for education

حال ہی میں کی گئی ایک عام ریسرچ کے مطابق دنیابھر کے ممالک میں

سکول کی عمر کے تقریبًا ایک ارب 30 کروڑ بچوں کے پاس اور ان کےگھروں کے ارد گردکہیں بھی

انکی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے ۔

جس کی وجہ سے وہ تعلیمی مواقع سے محروم ہورہے ہیں۔

اسی حوالے سے اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال یونیسیف اور بین الاقوامی ٹیلی مواصلات یونین کی

ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 3 سے 17 سال کی عمر تک کے بچوں کی 2 تہائی تعداد کے پاس

گھر میں انٹرنیٹ یا اسی قسم کی کسی سہولت کی رسائی تک نہیں ہے۔

تو پھر اسی وجہ سے وہ آن لائن تعلیم حاصل کیسے کریں۔

آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں کہہ تو سبھی رہے ہیں

لیکن اس کی رسائی کسی تک ہے یا نہیں اس بات پر کوئی غور نہیں کر رہا ہے۔


دنیا کی سب سے زیادہ ترین آمدنی والے ممالک میں سکول کی عمر والے 86 فیصد بچوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی کی سہولت ہوتی ہے لیکن کم ترین آمدنی والے ملکوں میں یہ تناسب تقریبًا 6 فیصد ہے۔

ذیلی صحرائی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں تقریبا 90 فیصد بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔مذکورہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 25 کروڑ بچوں کو کرونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران سکول بند ہو جانے کی وجہ سے آن لائن کلاسیں لینا پڑ رہی ہیں۔لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جوآن لائن تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔کچھ لڑکیوں کو بھی آن لائن تعلیم حاصل کرنے میں کچھ معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔ یونیسیف کی انتظامی ڈائریکٹر ہینریئیتا فور نے کہا ہے کہ ربط سازی کا فقدان بچوں کیلئے تعلیم کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں